ابنا: عرب مہاجرین ادارے کے سیاسی شعبہ کے سربراہ محمد ضرار جمو نے ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ شام میں مسلح دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور شامی عوام کا ناحق خون بہانے کا سعودی عرب،قطر اورترکی کو سنگین تاوان ادا کرنا پڑےگا۔ انھوں نے کہا کہ قطر ، سعودی عرب اورترکی دہشت گردوں کو تنخواہ ادا کررہے ہیں اورشامی عوام کو آوارہ اور بے گھر کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حلب کے شہریوں کا سامان دہشت گرد لوٹ رہے ہیں اور ترکی منتقل کررہے ہیں۔
ضرار جمو نے کہا کہ ہر جنگ کا اختتام آخر مذاکرات کے ذریعہ ہی ہوتا ہے شام کے صدر بشار اسد نے مخالفین کے لئے بہترین موقع فراہم کیا ہے اور مخالفین کو اس موقع سے استفادہ کرنا چاہیے اور ہتھیار زمین پر رکھ مذاکرات کی میز پر معاملات کو حل کرنا چاہیے۔
جمو ضرار نے کہا کہ ایک دن صوبہ اسکندرون شام کی آغوش میں واپس آجائے گا۔ واضح رہے کہ اسکندرون شام کا صوبہ تھا جسے فرانس نے ایک سازش کے تحت 1938 ء میں شام سے الگ کرکے ترکی کے حوالے کردیا تھا۔ اورآج تک شام کی کسی بھی حکومت نے اسکندرون کو ترکی کا حصہ تسلیم نہیں کیا ہے۔
........
/169